ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایمانداری سے کھڑے ہونے اور اطلاعات پر ناکہ بندی کی مخالفت کرنے پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے میڈیا اداروں سے کی اپیل

ایمانداری سے کھڑے ہونے اور اطلاعات پر ناکہ بندی کی مخالفت کرنے پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے میڈیا اداروں سے کی اپیل

Sun, 08 Mar 2020 09:19:14    S.O. News Service

نئی دہلی،8؍مارچ(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین او ایم اے سلام نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں دو ملیالم نیوز چینلوں - ایشیا نیوز اور میڈیا وَن- پر شمال مشرقی دہلی کے مسلم مخالف نسل کشی کو دکھانے کی وجہ سے نریندر مودی حکومت کے ذریعہ 48 گھنٹے تک پابندی لگائے جانے کے عمل کو جمہوریت کے چوتھے اور اہم ستون اور آئین ہند میں دی گئی اظہار رائے کی آزادی پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔

اس حکمنامے میں وزارت برائے نشرواطلاعات نے کہا ہے کہ دونوں چینلوں نے 25 فروری کو ہوئے تشدد کو اس انداز سے دکھایا ہے، جس میں ”عبادتگاہوں پر حملے کو اجاگر کیا گیا ہے اور ایک خاص فرقے کی طرفداری کی گئی ہے۔“ او ایم اے سلام نے اس عمل کو ان مرئی میڈیا کو خوفزدہ کرنے کا ایک طریقہ بتایا ہے جو آج بھی آر ایس ایس-بی جے پی اور ان کی حکومتوں کی غلط حرکتوں پر آزادانہ اور تنقیدی طریقے سے صحافتی خدمات انجام دینے کی جرأت کرتی ہیں۔وزارت برائے نشرواطلاعات اب تک کہاں سوئی ہوئی تھی جب بیشتر ہندی اور انگریزی ’گودی میڈیا‘ لگاتار مذہبی اقلیتوں، ان کی کوششوں، تنظیموں اور لیڈران کے خلاف زہر اگل رہی تھیں۔ مرکزی حکومت جنوبی ہند کے مقامی میڈیا گھرانوں کو خاص طور سے نشانہ بنا رہی ہے، کیونکہ وہ ہندوستان کے دیگر علاقوں کے میڈیا گھرانوں کے مقابلے اپنی آزادی کا پوری ایمانداری سے استعمال کرتے ہیں۔اس سے پہلے مرکزی حکومت اور اس کے بعد ریاستی حکومت نے مسلسل کئی سالوں تک ملیالم روزنامہ ’تیجس‘ کو اشتہار دینے سے انکار کر دیا تھا اور بالآخر وہ روزنامہ بند ہو گیا۔ لیکن اس ظالمانہ عمل کے خلاف صرف گنی چنی میڈیا نے ہی تھوڑی آواز بلند کی تھی۔

او ایم اے سلام نے کہا کہ بھاگوت-مودی-شاہ کی حکومت میں وزارت برائے نشرواطلاعات آج اطلاعات پر ناکہ بندی کی وزارت بن گئی ہے۔ انہوں نے ایشیا نیوز اور میڈیا ون کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جنہیں موجودہ تاناشاہی حکومت کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا ہے۔


Share: